The issue of gender equality is being raised and discussed quite often over the past few years. As it is a worldwide problem identified by the UNO, it gets International recognition and attention. If the problem has to be explained in simple words, it would be that men in today’s society are dominant over women, and women, in general, are suppressed all around the world. To solve this problem, every nation has a different approach according to the set of beliefs they have. We, as Muslims, have Islam as our ideology and director of life. According to that, we believe in equity rather than equality between men and women. We believe that both genders deserve the same amount of respect and dignity irrespective of the gender they have. They both play their unique roles and that’s the beauty of their relationship. If both had to do the same work, logically there was no reason to create two different genders. This topic is beautifully explained in the video above.

صنفی برابری کا مسئلہ پچھلے کچھ عرصے سے بے حد زور و شور سے اٹھایا جارہا ہے. اقوام متحدہ نے بھی اس مسئلے کے حل کے لیے منصوبہ بندی کی ہے اور اس مسئلہ کو بین الاقوامی سطح پر موضوعِ گفتگو بنایا ہوا ہے. اگر سادہ الفاظ میں اس مسئلے کو بیان کیا جائے تو بات یوں ہے کہ مرد آج کے معاشرے میں حاوی ہے اور عموماً عورت کو دبایا جارہا ہے. مرد اپنی طاقت کا ناجائز استعمال اور عورت کا استحصال ہورہا ہے اور یہ مسئلہ پوری دنیا میں سر اٹھا رہا ہے. اس مسئلے سے نبٹنے کے لیے ہر قوم اور ملک اپنے نظریات اور عقائد کے مطابق حل پیش کرتا ہے. ہم بحیثیت ایک مسلمان قوم، اسلام کے طریقوں کو مانتے اور اسی سے اپنے مسائل کا حل لیتے ہیں. اسلام کے مطابق ہم برابری کے بجائے مساوات پہ یقین رکھتے ہیں اور یہ مانتے ہیں کہ خواہ مرد ہو یا عورت، دونوں یکساں عزت اور احترام کے حق بجانب ہیں. دونوں اپنے مخصوص کردار نبھاتے اور اپنی انفرادیت کو برقرار رکھتے ہیں اور یہی ان کے رشتے کی خوبصورتی ہے. اگر دونوں کو ایک ہی جیسا کام کرنا ہوتا تو عقلی طور پہ دو الگ جنس بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی. اسی موضوع کو بہترین انداز میں اس ویڈیو میں سمجھایا گیا ہے.

Add comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *